دیکھ لو خواب مگر خواب کا چرچا نہ کرو
لوگ جل جائیں گے سورج کی تمنا نہ کرو
وقت کا کیا ہے، کسی پل بھی بدل سکتا ہے
ہو سکے تم سے تو تم مجھ پہ بھروسا نہ کرو
کرچیاں ٹوٹے ہوئے عکس کی چبھ جائیں گی
اجنبی لگنے لگے خود تمہیں اپنا ہی وجود
اپنے دن رات کو اتنا بھی اکیلا نہ کرو
خواب بچوں کے کھلونوں کی طرح ہوتے ہیں
خواب دیکھا نہ کرو، خواب دکھایا نہ کرو
بے خیالی میں کبھی انگلیاں جل جائیں گی
راکھ گزرے ہوئے لمحوں کی کریدا نہ کرو
موم کے رشتے ہیں گرمی سے پگھل جائیں گے
دھوپ کے شہر میں آزرؔ یہ تمنا نہ کرو
کفیل آزر
No comments:
Post a Comment