Wednesday, 13 January 2016

جاتے جاتے یہ نشانی دے گیا

جاتے جاتے یہ نشانی دے گیا
وہ میری آنکھوں کو پانی دے گیا
جاگتے لمحوں کی چادر اوڑھ کر
کوئی خوابوں کو جوانی دے گیا
میرے ہاتھوں سے کھلونے چھین کر
مجھ کو زخموں کی کہانی دے گیا
حل نہ تھا مشکل کا کوئی اس کے پاس
صرف وعدے آسمانی دے گیا
خود سے شرمندہ مجھے ہونا پڑا
آئینہ جب میرا ثانی دے گیا
مجھ کو آزرؔ اک فریبِ آرزو
خوبصورت زندگانی دے گیا

کفیل آزر

No comments:

Post a Comment