جاتے جاتے یہ نشانی دے گیا
وہ میری آنکھوں کو پانی دے گیا
جاگتے لمحوں کی چادر اوڑھ کر
کوئی خوابوں کو جوانی دے گیا
میرے ہاتھوں سے کھلونے چھین کر
حل نہ تھا مشکل کا کوئی اس کے پاس
صرف وعدے آسمانی دے گیا
خود سے شرمندہ مجھے ہونا پڑا
آئینہ جب میرا ثانی دے گیا
مجھ کو آزرؔ اک فریبِ آرزو
خوبصورت زندگانی دے گیا
کفیل آزر
No comments:
Post a Comment