Wednesday, 13 January 2016

رات بھر چاند کی گلیوں میں پھراتی ہے مجھے

رات بھر چاند کی گلیوں میں پھراتی ہے مجھے 
زندگی کتنے حسیں خواب دکھاتی ہے مجھے 
ان دنوں عشق کی فرصت ہی نہیں ہے، ورنہ
اس دریچے کی اداسی تو بلاتی ہے مجھے
توڑ دیتا ہوں کہ یہ بھی کہیں دھوکا ہی نہ 
جام میں جب تِری صورت نظر آتی ہے مجھے
دن اسی فرق کے جنگل میں گزر جاتا ہے
رات یادوں کا وہی زہر پلاتی ہے مجھے
ساتھ جس روز سے چھُوٹا ہے کسی کا آزرؔ
جیسے کمرے کی ہر اک چیز ڈراتی ہے مجھے

کفیل آزر

No comments:

Post a Comment