سلامِ آخر ہو شہرِ یاراں، تمہاری محفل سے جا رہا ہوں
فضول ہو گی تلاش میری، میں نقشِ پا بھی مٹا رہا ہوں
وفا کے ایوان سجا دئیے ہیں، اندھیرے شب کے مٹا دئیے ہیں
چراغِ الفت کی لو نہ کم ہو، میں خون دل کا جلا رہا ہوں
جو کہہ رہا ہوں گلہ نہ سمجھو، جو مجھ پہ گزری جفا نہ سمجھو
جو بعد میرے ہے مجھ سے ملنا، ہوا کے جھونکوں پر کان دھرنا
فضائیں دیں گی گواہی میری، میں گیت ایسے سجا رہا ہوں
شباب پر ہے تمہاری محفل، لٹا رہے ہو خمارِ مستی
بُتو! میرا بھی خیال رکھنا، کبھی تو میں بھی خدا رہا ہوں
نئی ہے منزل، نیا سفر ہے، حیاتؔ سے اب مجھے مفر ہے
عدم کی وادی کو جانے والو! ذرا سا ٹھہرو، میں آ رہا ہوں
جاوید حیات
No comments:
Post a Comment