دشتِ فراق کی وہ رات کیسی تھی رات، کچھ نہ پوچھ
تاروں کا ذکر اب نہ چھیڑ، چاند کی بات اب نہ پوچھ
قریۂ جان اجاڑ کر جانے کہاں نکل گئے
وہ جو دیے تھے بزم کے ان کی حیات کچھ نہ پوچھ
تُو نے صلیبیں گاڑ دیں، جھوم گئے خوشی سے ہم
میری ہی اڑتی دھول سے راہوں کی آنکھیں بجھ گئیں
روندی پڑی ہیں تتلیاں، کھائی جو مات کچھ نہ پوچھ
آ اپنی خوشی سے نام لکھ، خالی پڑی ہے لوحِ دل
نام و نمود کچھ نہ پوچھ، ذات و صفات کچھ نہ پوچھ
بٹتے تھے ہاتھوں ہاتھ جام، کیسی تھی بزم رنگ پر
کیسے لٹا وہ مے کدہ، ہائے وہ بات کچھ نہ پوچھ
موجِ ہوا کے دوش پر چٹکی ہوئی تھی چاندنی
کیسے کٹے گی آج رات، یار حیاتؔ کچھ نہ پوچھ
جاوید حیات
No comments:
Post a Comment