ہمارے شہر سے آ کر چلا گیا ہے کوئی
غبارِ راہ اڑا کر چلا گیا ہے کوئی
میں جل رہا تھا، چلو جلنے ہی دیا ہوتا
غضب کہ مجھ کو بجھا کر چلا گیا ہے کوئی
جنوں میں ڈھل گئی صورت ہماری آنکھوں میں
پوَن چلی تو فضا مہکی، رات مسکائی
کہ جیسے بام پر آ کر چلا گیا ہے کوئی
تمام شہر ہی منہ پھیر کر لگا چلنے
کچھ ایسی آگ لگا کر چلا گیا ہے کوئی
جاوید حیات
No comments:
Post a Comment