Thursday, 14 January 2016

وہ دامن دشت شوق کا خار

اقتباس از مثنوی گلزار نسیم

وہ دامن دشت شوق کا خار
یعنی تاج الملوک دل زار
درویش تھا بندہ خدا وہ
اللہ کے نام پر چلا وہ
اک جنگلے میں جا پڑا جہاں گرد
صحرائے عدم بھی تھا جہاں گرد
سایہ کو پتا نہ تھا شجر کا
عنقا تھا نام جانور کا
مرغان ہوا تھے ہوش راہی
نقشِ کفِ پا تھے ریگِ ماہی
وہ دشت کہ جس میں پرتگ و دو
یا ریگِ رواں تھا یا وہ رہرو
ڈانڈا تھا ارم کے بادشا کا
ایک دیو تھا پاسباں بلا کا
بھوکا کئی دن کا تھا وہ ناپاک
فاقوں سے رہا تھا پھانک کر خاک
حلوے کی پکا کر اک کڑھائی
شیرینی دیو کو چڑھائی
کہنے لگا، کیا مزا ہے دلخواہ
اے آدمی زاد! واہ، وا واہ
چیز کھلائی تُو نے مجھ کو
کیا اس کے عوض میں دوں تجھ کو؟
بولا وہ کہ پہلے قول دیجیے
پھر جو میں کہوں قبول کیجیے
گلزارِ ارم کی ہے مجھے دھن
بولا وہ ارے بشر! وہ گلبن
خورشید کے ہم نظر نہیں ہے
اندیشہ کا واں گزر نہیں ہے
رہ جا! مِرا بھائی ایک ہے اور
شاید کچھ اس سے بن پڑے طور
حال ا س سے کہا، کہ قول ہارا
ہے پیر یہ نوجواں ہمارا
مشتاقِ ارم کی سیر کا ہے
کوشش کرو، کام خیر کا ہے
حمالہ نام دیونی ایک
چھوٹی نہیں اس کی تھی بڑی نیک
خط اس کو لکھا بایں عبارت
"اے خواہرِ مہرباں سلامت"
"پیارا ہے مِرا یہ آدمی زاد
رکھیو اسے جس طرح میری یاد"
"انسان ہے چاہے کچھ جو سازش
مہمان ہے کیجئیو نوازش"
"باپ اس کا ہے اندھے پن سے مجہول
مطلوب بکاوَلی کا ہے پھول"
"دل داغ اس کا برائے گل ہے
نرگس کے لیے ہوائے گل ہے"
خط لے کے بشر کو لے اڑا دیو
پہنچا حمالہ پاس بے ریو
بھائی کا جو خط بہن نے پایا
بھیجے ہوئے کو گلے لگایا
دیووَں سے کہا، کہ چوہے بن جاوَ
تا باغ ارم سرنگ پہنچاوَ
سن حاجت نقب بہر گلگشت
کترا چوہوں نے دامنِ دشت
جب مہر تہ زمیں سمایا
اس نقب کی رہ وہ آدم آیا
کھٹکا جو نگاہ بانوں کا تھا
دھڑکا یہی دل کا کہہ رہا تھا

دیا شنکر نسیم

No comments:

Post a Comment