اقتباس از مثنوی گلزار نسیم
وہ دامن دشت شوق کا خار
یعنی تاج الملوک دل زار
درویش تھا بندہ خدا وہ
اللہ کے نام پر چلا وہ
اک جنگلے میں جا پڑا جہاں گرد
صحرائے عدم بھی تھا جہاں گرد
سایہ کو پتا نہ تھا شجر کا
عنقا تھا نام جانور کا
مرغان ہوا تھے ہوش راہی
نقشِ کفِ پا تھے ریگِ ماہی
وہ دشت کہ جس میں پرتگ و دو
یا ریگِ رواں تھا یا وہ رہرو
ڈانڈا تھا ارم کے بادشا کا
ایک دیو تھا پاسباں بلا کا
بھوکا کئی دن کا تھا وہ ناپاک
فاقوں سے رہا تھا پھانک کر خاک
حلوے کی پکا کر اک کڑھائی
شیرینی دیو کو چڑھائی
کہنے لگا، کیا مزا ہے دلخواہ
اے آدمی زاد! واہ، وا واہ
چیز کھلائی تُو نے مجھ کو
کیا اس کے عوض میں دوں تجھ کو؟
بولا وہ کہ پہلے قول دیجیے
پھر جو میں کہوں قبول کیجیے
گلزارِ ارم کی ہے مجھے دھن
بولا وہ ارے بشر! وہ گلبن
خورشید کے ہم نظر نہیں ہے
اندیشہ کا واں گزر نہیں ہے
رہ جا! مِرا بھائی ایک ہے اور
شاید کچھ اس سے بن پڑے طور
حال ا س سے کہا، کہ قول ہارا
ہے پیر یہ نوجواں ہمارا
مشتاقِ ارم کی سیر کا ہے
کوشش کرو، کام خیر کا ہے
حمالہ نام دیونی ایک
چھوٹی نہیں اس کی تھی بڑی نیک
خط اس کو لکھا بایں عبارت
"اے خواہرِ مہرباں سلامت"
"پیارا ہے مِرا یہ آدمی زاد
رکھیو اسے جس طرح میری یاد"
"انسان ہے چاہے کچھ جو سازش
مہمان ہے کیجئیو نوازش"
"باپ اس کا ہے اندھے پن سے مجہول
مطلوب بکاوَلی کا ہے پھول"
"دل داغ اس کا برائے گل ہے
نرگس کے لیے ہوائے گل ہے"
خط لے کے بشر کو لے اڑا دیو
پہنچا حمالہ پاس بے ریو
بھائی کا جو خط بہن نے پایا
بھیجے ہوئے کو گلے لگایا
دیووَں سے کہا، کہ چوہے بن جاوَ
تا باغ ارم سرنگ پہنچاوَ
سن حاجت نقب بہر گلگشت
کترا چوہوں نے دامنِ دشت
جب مہر تہ زمیں سمایا
اس نقب کی رہ وہ آدم آیا
کھٹکا جو نگاہ بانوں کا تھا
دھڑکا یہی دل کا کہہ رہا تھا
دیا شنکر نسیم
وہ دامن دشت شوق کا خار
یعنی تاج الملوک دل زار
درویش تھا بندہ خدا وہ
اللہ کے نام پر چلا وہ
اک جنگلے میں جا پڑا جہاں گرد
صحرائے عدم بھی تھا جہاں گرد
سایہ کو پتا نہ تھا شجر کا
عنقا تھا نام جانور کا
مرغان ہوا تھے ہوش راہی
نقشِ کفِ پا تھے ریگِ ماہی
وہ دشت کہ جس میں پرتگ و دو
یا ریگِ رواں تھا یا وہ رہرو
ڈانڈا تھا ارم کے بادشا کا
ایک دیو تھا پاسباں بلا کا
بھوکا کئی دن کا تھا وہ ناپاک
فاقوں سے رہا تھا پھانک کر خاک
حلوے کی پکا کر اک کڑھائی
شیرینی دیو کو چڑھائی
کہنے لگا، کیا مزا ہے دلخواہ
اے آدمی زاد! واہ، وا واہ
چیز کھلائی تُو نے مجھ کو
کیا اس کے عوض میں دوں تجھ کو؟
بولا وہ کہ پہلے قول دیجیے
پھر جو میں کہوں قبول کیجیے
گلزارِ ارم کی ہے مجھے دھن
بولا وہ ارے بشر! وہ گلبن
خورشید کے ہم نظر نہیں ہے
اندیشہ کا واں گزر نہیں ہے
رہ جا! مِرا بھائی ایک ہے اور
شاید کچھ اس سے بن پڑے طور
حال ا س سے کہا، کہ قول ہارا
ہے پیر یہ نوجواں ہمارا
مشتاقِ ارم کی سیر کا ہے
کوشش کرو، کام خیر کا ہے
حمالہ نام دیونی ایک
چھوٹی نہیں اس کی تھی بڑی نیک
خط اس کو لکھا بایں عبارت
"اے خواہرِ مہرباں سلامت"
"پیارا ہے مِرا یہ آدمی زاد
رکھیو اسے جس طرح میری یاد"
"انسان ہے چاہے کچھ جو سازش
مہمان ہے کیجئیو نوازش"
"باپ اس کا ہے اندھے پن سے مجہول
مطلوب بکاوَلی کا ہے پھول"
"دل داغ اس کا برائے گل ہے
نرگس کے لیے ہوائے گل ہے"
خط لے کے بشر کو لے اڑا دیو
پہنچا حمالہ پاس بے ریو
بھائی کا جو خط بہن نے پایا
بھیجے ہوئے کو گلے لگایا
دیووَں سے کہا، کہ چوہے بن جاوَ
تا باغ ارم سرنگ پہنچاوَ
سن حاجت نقب بہر گلگشت
کترا چوہوں نے دامنِ دشت
جب مہر تہ زمیں سمایا
اس نقب کی رہ وہ آدم آیا
کھٹکا جو نگاہ بانوں کا تھا
دھڑکا یہی دل کا کہہ رہا تھا
دیا شنکر نسیم
No comments:
Post a Comment