چہرۂ صبح نظر آیا رخِ شام کے بعد
سب کو پہچان لیا گردشِ ایام کے بعد
مل گئی راہِ یقیں، منزلِ اوہام کے بعد
جلوے ہی جلوے نظر آئے در و بام کے بعد
چاہیے اہلِ محبت کو کہ دیوانہ بنیں
امتحان طلبِ خام لیا ساقی نے
جام لبریز دیا دُردِ تہِ جام کے بعد
ہائے کیا چیز ہے یہ لطفِ شکستہ پائی
حوصلے اور بڑھے کوششِ ناکام کے بعد
زندگی نام ہے اک جہدِ مسلسل کا فناؔ
راہرو اور بھی تھک جاتا ہے آرام کے بعد
فنا نظامی کانپوری
No comments:
Post a Comment