Sunday, 9 October 2016

مجھے رتبۂ غم بتانا پڑے گا

مجھے رتبۂ غم بتانا پڑے گا
اگر میرے پیچھے زمانہ پڑے گا
بہت غمزدہ دل ہیں کلیوں کے لیکن
اصولاً انہیں مسکرانا پڑے گا 
سکوں ڈھونڈنے آئے تھے میکدہ میں
یہاں سے کہیں اور جانا پڑے گا
خبر کیا تھی جشنِ بہاراں کی خاطر
ہمیں آشیانہ جلانا پڑے گا
بہار اب نئے گل کھلانے لگی ہے
خزاں کو چمن میں بلانا پڑے گا
سکوتِ مسلسل مناسب نہیں ہے
اسیرو! تمہیں غُل مچانا پڑے گا
فناؔ تم ہو شاعر تو افسانۂ غم
غزل کی زبانی سنانا پڑے گا

فنا نظامی کانپوری

No comments:

Post a Comment