چلا ہوس کے جہانوں کی سیر کرتا ہُوا
میں خالی ہاتھ خزانوں کی سیر کرتا ہوا
پکارتا ہے کوئی ڈوبتا ہوا سایا
لرزتے آئینہ خانوں کی سیر کرتا ہوا
بہت اداس لگا آج زرد رو مہتاب
میں خود کو اپنی ہتھیلی پہ لے کے پھرتا رہا
خطر کے سرخ نشانوں کی سیر کرتا ہوا
کلام کیسا چکا چوند ہو گیا میں تو
قدیم لہجوں زبانوں کی سیر کرتا ہوا
زیادہ دور نہیں ہوں تِرے زمانے سے
میں آ ملوں گا زمانوں کی سیر کرتا ہوا
انجم سلیمی
No comments:
Post a Comment