سبھی میں ہوتا ہے، مجھ میں ذرا زیادہ ہے
مِرے وجود میں، 'میں' کم، خدا زیادہ ہے
چراغ دھر کے ہتھیلی پہ آ نہیں سکتا
میں جس جگہ ہوں، وہاں پر ہوا زیادہ ہے
ہمارے رشتے میں سچ ہے، معاملے میں نہیں
میں خیر و شر کے توازن میں جینا چاہتا ہوں
مجھے پتا تو چلے، مجھ میں کیا زیادہ ہے
یونہی نہیں مِلے معنی مِری خموشی کو
بس اپنے آپ کو میں نے سُنا زیادہ ہے
انجم سلیمی
No comments:
Post a Comment