جس دور پہ نازاں تھی دنیا اب ہم وہ زمانہ بھول گئے
دنیا کی کہانی یاد رہی،۔ اور اپنا فسانہ بھول گئے
منہ دیکھ لیا آئینے میں پر داغ نہ دیکھے سینے میں
دل ایسا لگایا جینے میں مرنے کو مسلماں بھول گئے
اغیار کا جادو چل بھی چکا ہم ایک تماشہ بن بھی گئے
وہ ذکر حسِیں، رحمت کا امیں کہتے ہیں جسے قرآنِ مبِیں
دنیا کے لیے نئے نغمے سیکھے، اللہ کا ترانہ بھول گئے
انجامِ آزادی کیا کہیے،۔۔ بربادی ہی بربادی ہے
جو درس شہِ بطحاؐ نے دیا، دنیا کو پڑھانا بھول گئے
دنیا کا گھر آباد کیا،۔۔ عقبیٰ کا مگر برباد کیا
مشکل میں اللہ کو یاد کیا مشکل ہوئی آساں بھول گئے
تکبیر تو اب بھی ہوتی ہے مسجد کی فضا میں اے انورؔ
جس ضرب سے دل ہل جاتے تھے وہ ضرب لگانا بھول گئے
انور صابری
No comments:
Post a Comment