Monday, 10 October 2016

بڑھتی ہے جگر کی بے تابی مایوس نگاہیں ہوتی ہیں

بڑھتی ہے جگر کی بے تابی، مایوس نگاہیں ہوتی ہیں
جب بند بہر سُو عالم میں، امید کی راہیں ہوتی ہیں
ہر لمحہ کشادہ جن کے لیے افلاک کی راہیں ہوتی ہیں
آغوشِ محبت میں پنہاں، کچھ ایسی بھی آہیں ہوتی ہیں 
صد روح و نشاطِ خلد و نظر، صد فتنۂ محشر در دامن
وہ ان کا تبسم ہوتا ہے،۔۔ یہ میری کراہیں ہوتی ہیں
وہ دیکھنے آتے ہیں منظر، جب دل کے شکستِ پیہم کا
نظروں کی حفاظت کرنے کو، جلووں کی پناہیں ہوتی ہیں
ہم صبر و رضا کے بندوں کو اس بحث سے انورؔ کیا مطلب
جو ہونے والی باتیں ہیں، ہم چاہیں نہ چاہیں، ہوتی ہیں

انور صابری

No comments:

Post a Comment