عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
"اقتباس از "حسین اور انقلاب
ہمراز یہ فسانۂ آہ و فغان نہ پوچھ
دو دن کی زندگی کا غم ایں و آں نہ پوچھ
کیا کیا حیات ارض کی ہیں تلخیاں نہ پوچھ
کس درجہ ہولناک ہے یہ داستاں نہ پوچھ
تفصیل سے کہوں تو فلک کانپنے لگے
دنیا کی ہر خوشی ہے غم و درد سے دوچار
ہر قہقے کی گونج میں ہے چشم اشکبار
کیا خار و خس کی وہ تو ہیں معتوبِ روزگار
نسرین و نسترن میں بھی پنہاں ہے نوکِ خار
نغمے ہیں جنبشِ دلِ مضطر لئے ہوئے
گلِ برگِ تک ہے برشِ خنجر لئے ہوئے
امراض سے کسی کا بڑھاپا ہے اک وبال
آلام سے کسی کی جوانی ہے پائمال
اس کو ہے خوفِ ننگ، اسے نام کا خیال
روزی سے کوئی تنگ، کوئی عشق سے نڈھال
ہر سانس ہے نویدِ عذابِ عظیم کی
گھبرا کے دو دہائی خدائے عظیم کی
ہوتا ہے جو سماج میں جویائے انقلاب
ملتا ہے اس کو مُرتد و زِندیق کا خطاب
پہلے تو اس کو آنکھ دکھاتے ہیں شیخ و شاب
اس پر بھی وہ نہ چپ ہو تو پھر قوم کو عتاب
بڑھتا ہے ظلم و جور کے تیور لئے ہوئے
تشنیع و طعن و دشنہ و خنجر لئے ہوئے
وہ کربلا کی رات وہ ظلمت ڈراؤنی
وہ مرگِ بے پناہ کے سائے میں زندگی
خیموں کے گرد و پیش وہ پُر ہول خامشی
خاموشیوں میں وہ دور سے چاپ کی موت
تھی پشت وقت بارِ الم سے جھکی ہوئی
ارض و سما کی سانس تھی گویا رکی ہوئی
تاریخ دے رہی ہے یہ آواز دم بدم
دشتِ ثبات و عزم ہے دشتِ بلا و غم
صبرِ مسیحؑ جرأت و سقراط کی قسم
اس راہ میں ہے صرف اک انسان کا قدم
جس کی رگوں میں آتش بدر و حنین ہے
جس سورما کا اسمِ گرامی حسین ہے
جوش ملیح آبادی
No comments:
Post a Comment