👼اینجل
نیند کی چادر چیر کے باہر نکلا تھا میں
آدھی رات اِک فون بجا تھا
دور کسی موہوم سرے سے
اک انجان آواز نے چھو کر پوچھا تھا؛
آپ ہی وہ شاعر ہیں جس نے"
"میرا نام بھی سوناں ہو تو؟
اک پتلی سی جھلی جیسی خاموشی کا لمبا وقفہ
میرے نام ایک نظم لکھو نا"
مجھ کو اپنے اک چھوٹے سے شعر میں سِی دو
اینجل لکھنا
شاید میری آخری شب ہے
"آخری خواہش ہے، میں آپ کو سونپ کے جاؤں؟
فون بجھا کر
دھجی دھجی نیند میں پھر جا لیٹا تھا میں
اس کے بہت دنوں کے بعد مجھے معلوم ہوا تھا
درد سے درد بجھانے کی اک کوشش میں تم
کینسر کی اس آگ پہ میر ی نظمیں چھڑکا کرتی تھیں
نیند بھری وہ رات کبھی یاد آئے تو
اب بھی ایسا ہوتا ہے
ایک دھواں سا آنکھوں میں بھر جاتا ہے
گلزار
No comments:
Post a Comment