Sunday, 9 August 2020

جو ہیں مظلوم ان کو تو تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں

جو ہیں مظلوم ان کو تو تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں
یہ کیسا شہر ہے ظالم کو زندہ چھوڑ دیتے ہیں
انا کے سکے ہوتے ہیں فقیروں کی بھی جھولی میں
جہاں ذلت ملے اس در پہ جانا چھوڑ دیتے ہیں
ہُوا کیسا اثر معصوم ذہنوں پر، کہ بچوں کو
اگر پیسے دکھاؤ تو، کھلونا چھوڑ دیتے ہیں
اگر معلوم ہو جائے پڑوسی اپنا بھوکا ہے
تو غیرت مند ہاتھوں سے نوالہ چھوڑ دیتے ہیں
مہذب لوگ بھی سمجھے نہیں قانون جنگل کا
شکاری شیر بھی کوؤں کا حصہ چھوڑ دیتے ہیں
پرندوں کو بھی انساں کی طرح ہے فکر روزی کی
سحر ہوتے ہی اپنا آشیانہ چھوڑ دیتے ہیں
تعجب کچھ نہیں دانا! جو بازارِ سیاست میں
قلم بک جائیں تو سچ بات لکھنا چھوڑ دیتے ہیں

عباس دانا

No comments:

Post a Comment