Sunday, 9 August 2020

تمہارا دکھ بھی دکھوں میں بہت نیا دکھ ہے

تمہارا دکھ بھی دکھوں میں بہت نیا دکھ ہے
مگر، ہمارا زیادہ ہی "بے تُکا" دکھ ہے
وہ مر گیا ہے تجھے جس کے ہاتھ سونپا تھا
پتہ نہیں کہ یہ تیرا ہے یا مِرا دکھ ہے
ہم اپنے دل کی دراڑیں دکھانے سے تو رہے
بتا ہی سکتے ہیں تجھ کو کہ دوستا! دکھ ہے
پلٹ کر آئے کوئی جب گزر چکا ہو سمے
بچھڑ کے جانے سے یہ اور بھی بڑا دکھ ہے
مِری کہانی بظاہر سجی ہے خوشیوں سے
مِری کہانی کو لیکن "سنوارتا" دکھ ہے
یہ دکھ نہیں کہ میں اندھا ہوں دل کے بے بصرو
پکارتے بھی ہو "اندھا" مجھے، بڑا دکھ ہے

پارس مزاری

No comments:

Post a Comment