کہکشاں وقت کی پلکوں پہ اتر آئی ہے
آسماں تک مِری آہوں کی پذیرائی ہے
کیا تجلی ہے کہ ہر آنکھ میں در آئی ہے
کیا تماشا ہے کہ ہر شخص تماشائی ہے
بارہا سلسلہ کفارۂ جاں تک پہنچا
آئینہ بن گیا جس شخص نے دیکھا تجھ کو
آئینہ ساز! تِرا حسنِ خود آرائی ہے
میں نے دیکھا ہے بکھرتے ہوئے شیرازۂ گل
میری نظروں میں مآلِ چمن آرائی ہے
نہ کوئی دیکھنے والا نہ سجانے والا
زخمِ دل آئینۂ لالۂ صحرائی ہے
پھر مِرے چاکِ گریباں کی نمائش ہو گی
پھر خرد کو ہوسِ انجمن آرائی ہے
اب کوئی شعلۂ آواز اٹھے یا نہ اٹھے
آرزو بامِ سماعت سے اتر آئی ہے
دلِ پُر داغ بھی اک طرفہ تماشا ہے ایاز
بزم کی بزم ہے تنہائی کی تنہائی ہے
ایاز صدیقی
No comments:
Post a Comment