ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیں
وہ سوچتا ہے کہ اس کے خیال میں گم ہیں
ہرایک لمحۂ لذت 🗢 حساب مانگتا ہے
سو ہم بھی سب کی طرح اک سوال میں گم ہیں
شفق کی آنکھ کسے رو رہی ہے مدت سے
رُتوں کے دائرے کیوں آج تک سلامت ہیں
تمام سلسلے کیوں ماہ و سال میں گم ہیں؟
یہ چاند جھیل کے پانی سے ہمکلام ہے کیوں
کنارے کس لیے رنج و ملال میں گم ہیں
اسعد بدایونی
No comments:
Post a Comment