Monday, 17 August 2020

ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیں

ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میں گم ہیں
وہ سوچتا ہے کہ اس کے خیال میں گم ہیں
ہرایک لمحۂ لذت 🗢 حساب مانگتا ہے
سو ہم بھی سب کی طرح اک سوال میں گم ہیں
شفق کی آنکھ کسے رو رہی ہے مدت سے
دیار و دشت سبھی کس ملال میں گم ہیں؟
رُتوں کے دائرے کیوں آج تک سلامت ہیں
تمام سلسلے کیوں ماہ و سال میں گم ہیں؟
یہ چاند جھیل کے پانی سے ہمکلام ہے کیوں
کنارے کس لیے رنج و ملال میں گم ہیں

اسعد بدایونی

No comments:

Post a Comment