Saturday, 8 August 2020

وہ دن گئے کہ دیکھتے عزت ہے کس کے پاس

وہ دن گئے کہ دیکھتے عزت ہے کس کے پاس
اب مسئلہ ہے صرف کہ طاقت ہے کس کے پاس
گرتے ہوؤں کو تھام لے، رستہ کسی کو دے
عجلت زدوں کی بھیڑ میں فرصت ہے کس کے پاس
بس اس پہ ہو گا فیصلہ، افراد ہوں، کہ قوم
رزقِ شعور، علم کی دولت ہے کس کے پاس
صدیوں سے اپنی آنکھ میں ٹھہرے ہیں کچھ اصول
کھلتا نہیں نفاذ کی طاقت ہے کس کے پاس
آنکھیں تو سب کے پاس ہیں، پر دیکھنا یہ ہے
ان منظروں میں ڈولتی حیرت ہے کس کے پاس
یہ عرصۂ حیات تو قدموں کی دھول ہے
جس کو نہ ہو زوال وہ شہرت ہے کس کے پاس
معلوم ہی نہیں کہ ہے آقاﷺ کا در کہاں؟
سر کو جھکائے بیٹھی یہ امت ہے کس کے پاس
کس کے سفر میں ماں کی دعائیں ہیں ساتھ ساتھ
روزِ جزا سے قبل یہ جنت ہے کس کے پاس
دیکھو تو ان کے مال کا ممکن نہیں شمار
لیکن سکونِ قلب کی راحت ہے کس کے پاس
لیتے ہو تم جو "قیس" کا اور "کوہکن" کا نام
ان کے جنوں کی کاذبو، شدت ہے کس کے پاس
دنیا کی بے وفائی پہ حیرت ہے کس لیے؟
رہتی تمام عمر یہ "عورت" ہے کس کے پاس
اچھی بہت ہیں آنکھیں تِری اے غزالِ جاں
ایسی کشش کہاں ہے، یہ وحشت ہے کس
منظر کے پار ہوتے ہیں منظر کچھ اور بھی
جو ان کو دیکھ لے وہ بصیرت ہے کس کے پاس
امجد کسی کے سامنے کیجے نہ عرضِ حال
اس رہگزر میں اتنی فراغت ہے کس کے پاس

امجد اسلام امجد

No comments:

Post a Comment