پسینہ ماتھے سے بہہ رہا ہے نہ کوئی سلوٹ لباس پر ہے
عجب تھکن ہے جو کام کرنے سے قبل طاری حواس پر ہے
سفید رُت میں گلاب ہاتھوں سے سات رنگوں کے خواب چنتی
کپاس چننے کو آئی لڑکی کا دھیان تھوڑی کپاس پر ہے
سمندروں کے مسافرو کچھ اضافی پانی بھی ساتھ رکھنا
بدن کا ہر ایک عضو دل کا کِیا کرایا بھگت رہا ہے
اس اک سٹوڈنٹ کی خطا کا عتاب ساری کلاس پر ہے
مِری محبت ابلتے الفاظ کی نہ محتاج ہے، نہ ہوگی
یہ ٹھنڈا پانی گلاس میں ہے مگر پسینہ گلاس پر ہے
پارس مزاری
No comments:
Post a Comment