ساتھ ہیں، بات مگر نہیں ہوتی
اب انہیں میری خبر نہیں ہوتی
دیکھ لو مانگ کے حسنِ گزشتہ
ہر دعا پوری مگر نہیں ہوتی
نقاب الٹنا نہیں سرِ محفل
ہر نظر میری نظر نہیں ہوتی
اوڑھ لوں جب تری یادوں کی چادر
پھر دیر تلک سحر نہیں ہوتی
کیوں اداس رہتی مری آنکھیں
تم سے محبت اگر نہیں ہوتی
قید ہیں ظلمتیں مرے اندر
روشنی کیوں منتشر نہیں ہوتی
ایسی ہیں نا کچھ خطائیں ندیم
سزا جن کی مختصر نہیں ہوتی
ندیم جعفری
No comments:
Post a Comment