Monday, 21 December 2020

رنگ پہ لایا ہجوم ساغر و پیمانہ آج

 رنگ پہ لایا ہجوم ساغر و پیمانہ آج

بھر گئی سیرابیوں سے محفلِ رندانہ آج

بسکہ زیبِ انجمن ہے جلوۂ جانانہ آج

ہے سراپا آرزو ہر عاشقِ دیوانہ آج

یہ ہوا بے تابیوں پر نشۂ مے کا اثر

کہہ دیا سب ان سے حالِ شوقِ گستاخانہ آج

رشک سے مٹ مٹ گئے ہم تشنہ کامانِ وصال

جب ملا لب ہائے ساقی سے لبِ پیمانہ آج

ہے فروغِ بزمِ یکتائی جو وہ شمعِ جمال

آ گئی ہے دل میں بھی بے تابیِ پروانہ آج

ہیں سرورِ وصل سے لبریز مشتاقوں کے دل

کر رہی ہیں آرزوئیں سجدۂ شکرانہ آج

حسرتیں دل کی ہوئی جاتی ہیں پامالِ نشاط

ہے جو وہ جانِ تمنا رونقِ کاشانہ آج

غرق ہے رنگینیوں میں مستیوں سے چور چور

ہے سراپا بے خودی وہ نرگسِ مستانہ آج

میہمانِ خانۂ دل ہے جو وہ رشکِ بہار

ہو گیا ہے غیرتِ فردوس یہ ویرانہ آج

مل گیا اچھا سہارا عذرِ مستی کا ہمیں

لے لیا آغوش میں اس گل کو بیباکانہ آج

خُم لگا دے ہم بلا نوشوں کے منہ سے ساقیا

کام آئے گا نہ ساغر آج، نے پیمانہ آج

دیکھیے اب رنگ کیا لائے وہ حسنِ دل فریب

آئینہ پیشِ نظر ہے، ہاتھ میں ہے شانہ آج

میں ہی اے حسرت نہیں محوِ جمالِ روئے یار

پڑ رہی ہیں سب نگاہیں اس پہ مشتاقانہ آج


حسرت موہانی

No comments:

Post a Comment