ورچوئل محبت
اب ہم تمہیں اپنے لفظوں میں جی لیتے ہیں
تمہاری تصویر کی چاہ کو الفت سمجھ کر
دل کو مبتلائے عشق گمان کر کے بھی
رتجگوں کا رنگ پھیکا ہی رہتا ہے
محبت کے گلابی دائروں کو
فضا میں دیکھنا ممکن کہاں ہے
کہ تمہاری ہاتھ کے لمس سے ماورأ
محبت اسکرین کا حصہ ہی ٹھہری ہے
یہ پلکوں پہ ستارے سجاتی ہے
نہ آنکھوں میں خواب
کیونکہ اب یہ اسکرین سے باہر آتے ہی
دم توڑ دیتی ہے
ثمینہ رشید
No comments:
Post a Comment