Tuesday, 22 December 2020

اب ہم تمہیں اپنے لفظوں میں جی لیتے ہیں

 ورچوئل محبت


اب ہم تمہیں اپنے لفظوں میں جی لیتے ہیں

تمہاری تصویر کی چاہ کو الفت سمجھ کر

دل کو مبتلائے عشق گمان کر کے بھی

رتجگوں کا رنگ پھیکا ہی رہتا ہے

محبت کے گلابی دائروں کو

فضا میں دیکھنا ممکن کہاں ہے

کہ تمہاری ہاتھ کے لمس سے ماورأ

محبت اسکرین کا حصہ ہی ٹھہری ہے

یہ پلکوں پہ ستارے سجاتی ہے

نہ آنکھوں میں خواب

کیونکہ اب یہ اسکرین سے باہر آتے ہی

دم توڑ دیتی ہے


ثمینہ رشید

No comments:

Post a Comment