فقط یہی تو کمائی ہوئی ہے کمرے میں
سکوں کی نیند اُگائی ہوئی ہے کمرے میں
دِیے نے خواب میں آ کر مجھے بتایا ہے
ہوا نے ٹانگ اڑائی ہوئی ہے کمرے میں
میرا تو تکیہ بھی باہر نکال پھینکا ہے
سنا ہے خوب صفائی ہوئی ہے کمرے میں
میں اس ہوا کو بھی کھڑکی تلک نہ آنے دوں
تُو کس سے پوچھ کے آئی ہوئی ہے کمرے میں
جو روشنی بھی امان اب یہاں سے غائب ہے
ضرور تجھ سے برائی ہوئی ہے کمرے میں
امان اللہ خان
No comments:
Post a Comment