Thursday, 4 February 2021

یہ جو پھر رہی ہے ابھی تلک میری لاش میں

 یہ جو پھر رہی ہے ابھی تلک میری لاش میں

میری زندگی بھی ہے زندگی کی تلاش میں

کبھی اپنے بارے میں سوچ لوں نہیں وقت ہے

میں پھنسا ہوا ہوں عجیب طرزِ معاش میں

جسے بھیجا تھا کہ خرید لا تو میری انا

وہی رکھ کے لایا تھا میرا سر اسی تاش میں

کوئی راز تو نہیں ہوں آ مجھے دیکھ لے

اے نگاہ میں تو کھڑا ہوں حالتِ فاش میں


فیصل تبسم

No comments:

Post a Comment