یہ جو پھر رہی ہے ابھی تلک میری لاش میں
میری زندگی بھی ہے زندگی کی تلاش میں
کبھی اپنے بارے میں سوچ لوں نہیں وقت ہے
میں پھنسا ہوا ہوں عجیب طرزِ معاش میں
جسے بھیجا تھا کہ خرید لا تو میری انا
وہی رکھ کے لایا تھا میرا سر اسی تاش میں
کوئی راز تو نہیں ہوں آ مجھے دیکھ لے
اے نگاہ میں تو کھڑا ہوں حالتِ فاش میں
فیصل تبسم
No comments:
Post a Comment