Thursday, 4 February 2021

کھلا یہ ہم پہ جلا کر چراغ رات کے بعد

 کھلا یہ ہم پہ جلا کر چراغ رات کے بعد

کہیں نہ پائیں گے اس کو ہم اپنی ذات کے بعد

یہ پیاس بجھ نہ سکی تشنہ لب کی اور کہیں

ہے انتظار میں کوثر کے وہ، فرات کے بعد

ملے جدائی صلے میں جنہیں وفاؤں کے

بھروسہ اٹھ گیا ان کا اس التفات کے بعد

مجھے یقین تھا منہ میرا بند کر دے گا

چھپٹ لیا تھا قلم اسنے جب دوات کے بعد

وہ آئے، بیٹھے، کئے لب کشا، نہ بات ہوئی

ارادہ اپنا تھا بولیں گے ان کی بات کے بعد

بلائے عشق ٹلی ہے کسی طرح سے سہیل

کِیا گناہ دوبارہ نہ اس نجات کے بعد


خرم سہیل

No comments:

Post a Comment