کھلا یہ ہم پہ جلا کر چراغ رات کے بعد
کہیں نہ پائیں گے اس کو ہم اپنی ذات کے بعد
یہ پیاس بجھ نہ سکی تشنہ لب کی اور کہیں
ہے انتظار میں کوثر کے وہ، فرات کے بعد
ملے جدائی صلے میں جنہیں وفاؤں کے
بھروسہ اٹھ گیا ان کا اس التفات کے بعد
مجھے یقین تھا منہ میرا بند کر دے گا
چھپٹ لیا تھا قلم اسنے جب دوات کے بعد
وہ آئے، بیٹھے، کئے لب کشا، نہ بات ہوئی
ارادہ اپنا تھا بولیں گے ان کی بات کے بعد
بلائے عشق ٹلی ہے کسی طرح سے سہیل
کِیا گناہ دوبارہ نہ اس نجات کے بعد
خرم سہیل
No comments:
Post a Comment