Sunday, 1 August 2021

شاید پھر تعلق کی کوئی صورت نکل آئے

 شاید پھر تعلق کی کوئی صورت نکل آئے


یہ کیسی بھیڑ ہے

سب کچھ نظر کے سامنے ہوتے ہوئے

آنکھوں سے اوجھل ہے

کوئی چہرہ بھی پہچانا ہوا چہرہ نہیں لگتا

کہیں بھی کوئی تھوڑی دیر رک جائے

مگر یہ کیسے ممکن ہے؟

کہ رک جانے سے منظر کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے

تسلسل ایک دریا ہے

اسے تو عمر بھر بہنا ہے

اور اس بہتے دریا میں

اتر کر

پار جانے کے لیے رستہ بنانا ہے

یہ دریا پار کرنا ہے

کہ اس کے بعد شاید پھر

تعلق کی کوئی صورت نکل آئے


یوسف خالد

No comments:

Post a Comment