شاید پھر تعلق کی کوئی صورت نکل آئے
یہ کیسی بھیڑ ہے
سب کچھ نظر کے سامنے ہوتے ہوئے
آنکھوں سے اوجھل ہے
کوئی چہرہ بھی پہچانا ہوا چہرہ نہیں لگتا
کہیں بھی کوئی تھوڑی دیر رک جائے
مگر یہ کیسے ممکن ہے؟
کہ رک جانے سے منظر کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے
تسلسل ایک دریا ہے
اسے تو عمر بھر بہنا ہے
اور اس بہتے دریا میں
اتر کر
پار جانے کے لیے رستہ بنانا ہے
یہ دریا پار کرنا ہے
کہ اس کے بعد شاید پھر
تعلق کی کوئی صورت نکل آئے
یوسف خالد
No comments:
Post a Comment