بہت سے لوگ فقط دیکھ بھال کرتے ہیں
ہم اپنی جان سے بڑھ کر خیال کرتے ہیں
ہے کہنا ان کا کہ تم کچھ بھی تو نہیں کرتے
"جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں"
تُو سوچ بھی نہیں سکتا تو سمجھے گا کیسے
اُداسیوں میں جو ہم اپنا حال کرتے ہیں
ہم ایسے لوگ کہ مر جائیں خامشی سے کہیں
تم ایسے لوگ، زمانے ملال کرتے ہیں
ہمیں زوال سے نِسبت ہے اس لیے تو ہم
تمام کام ہی وقتِ زوال کرتے ہیں
کوئی سلونی کی اب بھی صدائیں دیتا ہے
مگر یہ لوگ بھی ویسے سوال کرتے ہیں
ہم عشق وشق میں جاں دینے کے نہیں قائل
ہم اپنے آپ کو زندہ مثال کرتے ہیں
کبھی کبھی تو ہیں انسان زندگی لگتے
کبھی کبھی تو یہ جینا محال کرتے ہیں
ثروت مختار
No comments:
Post a Comment