عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
گلشن صدق و صفا کا لالۂ رنگیں حسینؑ
شمعِ عالم، مشعلِ دنیا، چراغِ دیں حسین
سر سے پا تک سرخئ افسانۂ خونیں حسین
جس پہ شاہوں کی خوشی قربان وہ غمگیں حسین
مطلعِ نور مہ و پرویں ہے پیشانی تِری
باج لیتی ہے ہر اک مذہب سے قربانی تِری
جادۂ عالم میں ہے رہبر تِرا نقشِ قدم
سایۂ دامن ہے تیرا پرورش گاہِ ارم
بادۂ ہستی کا ہستی سے تیری ہے کیف و کم
اٹھ نہیں سکتا تیرے آگے سرِ لوح و قلم
تُو نے بخشی ہے وہ رفعت ایک مشتِ خاک کو
جو بایں سرکردگی حاصل نہیں افلاک کو
بارشِ رحمت کا مژدہ، باب حکمت کی کلید
روز روشن کی بشارت،صبح رنگیں کی نوید
ہر نظامِ کہنہ کو پیغام آئینِ جدید
اے کہ ہے تیری شہادت اصل میں مرگِ یزید
تیری مظلومی نے ظالم کو کیا یوں بے نشاں
ڈھونڈتا پھرتا ہے اس کی ہڈیوں کو آسماں
سحر دہلوی
(کنور مہندر سنگھ بیدی)
No comments:
Post a Comment