Monday, 20 September 2021

رقص تھا چاند کا بادلوں سے پرے

 ‏چاند


رقص تھا چاند کا

بادلوں سے پرے

اس شبستان میں

جو پری کے

دریچے کے تھا سامنے

محو ایسا ہوا

دم بخود رہ گیا

اپنی ہر اک ادا

ناز کی انتہا

اس دھڑکتی ہوئی ناف کی

جنبشوں میں کہیں کھو گیا

چاند بھی سو گیا


سلمیٰ سید

No comments:

Post a Comment