گلوں کو اختلاف تھا
کپاس کی پکی ہوئی قطار در قطار ڈالیوں میں
ایک وہ اگر کھڑا ہوا بھی تھا
وہ انتظار کر رہا تھا شاہزادی کا
گلاب سے مقابلے کو تھوڑی آیا تھا
گلوں کو اختلاف تھا
کہ میرا شاہزادہ کھیت میں
اگر کھڑا رہا تو پھول پتیاں
جو سامنے کپاس کی پکی ہوئی
بھری ہوئی حسین ڈالیوں کے پاس
گلوں کی اس کیاری میں
کھلے ہوئے گلاب کو
بنا چکی ہیں بادشہ
وہ رو پڑیں گی اور پھر
گلوں کو اختلاف تھا
عروبہ نقوی
No comments:
Post a Comment