اس نے کتنا خیال رکھا ہے
میری یادوں کو پال رکھا ہے
بے سبب یاد بھی نہیں کرتا
اس نے حیرت میں ڈال رکھا ہے
کوئی بہتر جواب دے دینا
لب پہ حرفِ سوال رکھا ہے
اس کو بھولوں کہ یاد رکھوں میں
دل نے مشکل میں ڈال رکھا ہے
ہو نہ جاؤ عروج سے مغرور
یوں خدا نے زوال رکھا ہے
اس شکاری کو بھول مت جانا
جس نے رستے میں جال رکھا ہے
اب سہارا ہے بس ہواؤں کا
میں نے خود کو اچھال رکھا ہے
اس کی یادوں نے ہی حلیم اب تک
ربط اس سے بحال رکھا ہے
عبدالحلیم گونڈوی
No comments:
Post a Comment