ہر لفظ ہے نوشتۂ دیوار کی طرح
سچ بولتا ہے وہ مِرے اشعار کی طرح
ماں ہے عظیم نور کے مینار کی طرح
غصہ تو کر رہی ہے مگر پیار کی طرح
گر سوچئے مہاجر و انصار کی طرح
جذبہ نہیں ہے جذبۂ ایثار کی طرح
دنیا سے پیش آئیے بیزار کی طرح
پیچھے پھرا کرے گی طلبگار کی طرح
خوشبوئے دوستاں تو ہوا پر سوار ہے
چلنا پڑے گا وقت کی رفتار کی طرح
رشتے ہوئے مفاد پرستی میں مبتلا
گھر ہو گیا ہے کوچۂ بازار کی طرح
کاسہ ہے اس امیر کی قسمت میں اے خلش
جھکتا نہیں جو شاخ ثمر دار کی طرح
اقبال خلش
No comments:
Post a Comment