اب تیغ کی باتیں ہیں نہ تلوار کی باتیں
کرتے نہیں دیوانے بھی اب دار کی باتیں
ہر ہاتھ مسیحا ہے تو ہر گود ہے مریم
بیمار سمجھ لیتے ہیں بیمار کی باتیں
کہتے ہیں مگر غیر سے افسانۂ جاناں
جاناں سے کیے جاتے ہیں اغیار کی باتیں
پتے ہوئے سورج کے تلے اونگھتا بچہ
کرتے رہو اس سے گل و اشجار کی باتیں
پابندِ سلاسل ہے، اسے کھل کے سناؤ
زنجیر کے قصے، کبھی جھنکار کی باتیں
رکھ رکھ کے ترازو میں مِرا دفترِ اعمال
تولیں گے گنہ گار، گنہ گار کی باتیں
خاموشی میں پنہاں ہے مِرے درد کی آواز
باتوں سے علاوہ ہیں دلِ زار کی باتیں
طلعت فاروق
No comments:
Post a Comment