کنوئیں میں غار میں خیبر فرات میں بھی تھا
خدا کا ساتھ مِری مشکلات میں بھی تھا
ابھی جو شعر تمہیں حمد کا سنایا ہے
یہ ایک شعر میری پچھلی نعت میں بھی تھا
تمہارے پاس میں بیٹھا تو مجھ کو یاد آیا
یہی سکون تو صوم و صلوات میں بھی تھا
یہ میرے بیٹے نے آ کر بتایا تھا مجھ کو
کہ تجھ سے بڑھ کے کوئی کائنات میں بھی تھا
تمہارے ہاتھ کی نرمی کپاس میں بھی تھی
تمہارے دل کا اثر سخت دھات میں بھی تھا
میں لاکھ چاہتا تھا عشق سے بچوں لیکن
کوئی بخار تھا جو احتیاط میں بھی تھا
جو تیرے ہجر میں بچنے میں کامیاب ہوئے
ہمارا ذکر انہی پانچ سات میں بھی تھا
ہمارا دن تو اسی درد میں گزرتا ہے
یہ جو سکون ہے اس کو تو رات میں بھی تھا
وہ شخص دوستوں میں بارہا نظر آیا
ہمارے قتل کی جو واردات میں بھی تھا
مجھے لگا تھا کہ لاہور ہی میں ہوتا ہے
تمہارا حسن تو ہنزہ سوات میں بھی تھا
ندیم راجہ
No comments:
Post a Comment