تم جس درد کے درماں ہو اس درد کی قسمت کیا کہنا
تم تقدیرِ محبت ہو،۔ تقدیر محبت کیا کہنا
عشق کی صورت میں مُضمر ہے حُسنِ حقیقت
میں گویا تیری محفل ہوں، تُو میری خلوت کیا کہنا
مجھ سے مجھ کو لے بھی لے با خود ہوں تُو بے خود کر دے
میں تیری مستی کے صدقے ہستی کی حسرت کیا کہنا
دیوانۂ حسن کبھی تھا میں، اب حسن ہے میرا دیوانہ
اے جذبۂ عشق! تعال اللہ، تاثیر محبت کیا کہنا
وہ تیرا ذہین وہ دیوانہ، وہ رند خراب مے خانہ
ہر راز ہے اس کا افسانہ اب اس کی حالت کیا کہنا
ذہین شاہ تاجی
محمد طاسین فاروقی
No comments:
Post a Comment