Wednesday, 8 June 2022

ہم ایک دوسرے کے زمانوں سے دور جنم لیتے رہے

جنموں کی دوری پر


ہم ایک دوسرے کے

زمانوں سے دُور جنم لیتے رہے

جب ہم ملے

تو وہ ایک لمحے کا

ہزارواں حصہ تھا

اور لمحے کے اس ہزارویں حصے میں

میری روح

اس کے وجود میں

قید ہو چکی تھی

اور میرے وجود میں

اس کی روح

سکونت اختیار کر چکی تھی

جنموں کے تفاوت میں

ہم ایک دوسرے کو

زمانوں کی دوری سے دیکھتے ہیں

مل نہیں سکتے

وہ میرے زمانے سے پہلے چلا آیا

اور میں اس کے زمانے کے بعد

اب ہم اپنے اپنے زمانے میں

نہ ملنے کے ملال سے چُور

کسی اور جنم کا انتظار کرتے رہیں گے


قرۃ العین شعیب

No comments:

Post a Comment