Wednesday, 13 July 2022

مقام ہوش سے گزرا مکاں سے لا مکاں پہنچا

 مقامِ ہوش سے گزرا مکاں سے لا مکاں پہنچا

تمہارے عشق میں دیوانۂ منزل کہاں پہنچا

نظر کی منزلوں میں بس تمہیں حسن مجسم تھے

متاع آرزو لے کر میں الفت میں جہاں پہنچا

اسی نے عشق بن کر دو جہاں کو پھونک ڈالا ہے

وہ شعلہ جو تِری نظروں سے دل کے درمیاں پہنچا

جنوں ظاہر ہوا رخ پر خودی پر بے خودی چھائی

بہ قید ہوش میں جب بھی قریب آستاں پہنچا

تم اپنی جستجو میں یہ مِرا شوق طلب دیکھو

تمہارے عشق میں لٹ کر بھی تم تک جان جاں پہنچا

تعلق توڑ کر جان جہاں سارے زمانے سے

میں پہنچا تھا جہاں مجھ کو تِری خاطر وہاں پہنچا

فنا وہ جلوہ گر ہونے لگے ہر بزم ایماں میں

مِرا دل لے کے جب مجھ کو سرِ کوئے بتاں پہنچا


فنا بلند شہری

No comments:

Post a Comment