ہجر زادوں کو بھی خوشحال بنا دیتی ہے
سرخئ شام تِرے گال بنا دیتی ہے
بیٹھ جاتے ہیں ملنگ اپنی کہانی لے کر
بھوک درگاہوں کو چوپال بنا دیتی ہے
اس لیے تم کو پریشان نہیں لگتا ہوں
ماں کی عادت ہے مِرے بال بنا دیتی ہے
جانے والے ابھی اوجھل نہیں ہونے پاتے
دھول وحشت کے خد و خال بنا دیتی ہے
اک نظر ہوتی ہے کہتے ہیں جسے بد نظری
اک نظر ہوتی ہے لجپال بنا دیتی ہے
کوچۂ عشق تِری خاک کے کیا کہنے ہیں
سر میں پڑتی ہے تو ابدال بنا دیتی ہے
ہم وہ احساس کے مارے ہوئے حاتم ساجد
اک سخاوت جنہیں کنگال بنا دیتی ہے
لطیف ساجد
No comments:
Post a Comment