اس وقتِ ناروا کی شناسائیاں تمام
لکھ دی ہیں دستِ شام پہ تنہائیاں تمام
کب تک پرائی دِید سے آنکھیں وضو کریں
مِٹنے لگی ہیں آنکھ سے پرچھائیاں تمام
شہرِ سخن کی آبرو، تِیرہ شبوں کی ضو
ہم کو ملیں قلم سے یہ رعنائیاں تمام
تا وقت اک نظر پہ کھلے اپنی خامشی
دامانِ دل میں بھر لی تھیں رُسوائیاں تمام
تیرے نگر کو راس تھے ہم سے دریدہ دل
اور دل کو راس انجمن آرائیاں تمام
ان بانجھ سی ہواؤں کے چلنے سے کیا ہوا
بُجھتی رہیں امید کی رعنائیاں تمام
رستے میں تھک کے گر گئے سب رہروانِ دل
تیز آندھیوں سے جا ملیں پُروائیاں تمام
آئلہ طاہر
No comments:
Post a Comment