Tuesday, 13 September 2022

غزل کا مطلع کہیں اور سے طلوع ہوا

 عارفانہ کلام منقبت سلام بر عشرہ مبشرہ


غزل کا مطلع کہیں اور سے طلوع ہوا

مِرا بیان ابو بکرؓ سے شروع ہوا

یہ میرا مطلعِ ثانی عمرؓ کے نام کا ہے

تمام حسنِ معانی عمرؓ کے نام کا ہے

برائے چاہتِ عثمانؓ سانس لیتا ہوں

خدا کا شکر ہے آسان سانس لیتا ہوں

فقیرِ حیدرِ کرارؓ ہوں بحمد اللہ

علیؓ کی آل کا حُبدار ہوں بحمد اللہ

بنو تمیم کے طلحہؓ کی بات کرتا رہوں

خدا کرے میں صحابہؓ کی بات کرتا رہوں

مِرے نبیؐ کے حواری زبیرؓ ابنِ عوام

تمام کفر پہ بھاری زبیرؓ ابنِ عوام

خدا نے عوفؓ کے بیٹے کو مالدار کیا

جب اس نے دین محمدﷺ کا اختیار کیا

ابو وقاص کے بیٹے کو سعدؓ کہتے ہیں

نبیؐ کے ماموں ہیں اورمیرے دل میں رہتے ہیں

سعیدؓ زید کے بیٹے!، بنو عدی کے چراغ

مِرے یقیں میں ہیں روشن مِرے نبیؐ کے چراغ

ابو عبیدہؓ ہوئے ہیں امین امت کے

گلاب کھلتے رہیں آپؓ کی عقیدت کے

مِرے لیے ہیں یہ نادر جوازِ خُلدِ بریں

یہ دس عظیم صحابہؓ ہیں نازِ خُلدِ بریں


نادر صدیقی

No comments:

Post a Comment