عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ماں
مصرعہ ہر اک شعور کی میزان میں رہے
رتبہ نبیﷺ کی ماں کا بھی پہچان میں رہے
حق پر نظر تو دل مِرا قرآن میں رہے
اے بابِ علم اذنِ سخن چاہیے مجھے
عزمِ حسینؑ و حلمِ حسنؑ چاہیے مجھے
پروردگار ماں کی محبت کی ہے دلیل
اور ماں ہے خود خلوص کی ایثار کی فصیل
سینے پہ کائنات کے احساس کی ہے جھیل
عادل خدا کی ذات تو یہ ماں بھی ہے عدیل
اس ماں سے بڑھ کے کون ہے بالا بتائیے
اس ماں سے بڑھ کے چاہنے والا بتائیے
رحمت خدا کی عظمتِ نسواں ہے ماں کا نام
افسانۂ حیات کا عنواں ہے ماں کا نام
دولت وفا کی عزتِ انساں ہے ماں کا نام
بے شک خدائے پاک کا احساں ہے ماں کا نام
لفظوں سے جس کے آتی ہے خوشبو وہ پھول ہے
معراج ساری ماؤں کی بنتِ رسولﷺ ہے
صفدر دو رب کو ماں کی محبت کا واسطہ
بنتِ نبیﷺ کی عفت وعصمت کا واسطہ
اُن کے کرم کا رحمت و عظمت کا واسطہ
اصغر سے شیر خوار کی تُربت کا واسطہ
یہ مرثیہ بھی بنتِ نبیﷺ کو قبول ہو
ہر ماں کی قبر پر تری رحمت نزول ہو
صفدر ہمدانی
No comments:
Post a Comment