ابرو کا وار اور دل بے قرار پر
کیوں رکھ لیا غریب کو خنجر کی دھار پر
اس برق وش نے ہنس کے مِرے حال زار پر
بجلی گرائی خِرمنِ صبر و قرار پر
سنیے تو کچھ نہیں یے برا ماننے کی بات
دل دے تو کوئی آپ کو کس اعتبار پر
لی ہو گی جیتے جی مِری کچھ آپ نے خبر
کچھ بعد مرگ آئیں گے میرے مزار پر
کنج قفس سے ہائے رہائی نہ ہو سکی
ہر چند عندلیب نے مارے ہزار پر
برق دہلوی
منشی مہاراج بہادر ورما
No comments:
Post a Comment