نوجواں! اپنی خودی کی پرورش کر نوجواں
اس جہاں کا ساز تو تیری خودی کا ساز ہے
اپنی شخصیت کو دے تابِ محبت، تابِ عزم
تیری ہمت کے لیے قصرِ جہاں در باز ہے
ہے خودی کیا، عشقِ گردوں تاز اور محکم یقیں
ہے خودی تیری اگر، شاہین ہے شہباز ہے
بے خودی بھی ہے خودی کا پہلوئے جمیل
یہ نشیمن ساز وہ مینوگرِ پرواز ہے
محترم رکھ وقت کو، ہاں وقت سے تو منہ نہ پھیر
یہ خودی کے برق ذوقِ ارتقاء کا راز ہے
وقت کے اعجاز سے تیری خودی کو ہے ثبات
گو بظاہر وقت بھی اک جلوۂ طنّازہے
آبِ تیغِ وقت ہے تیرے لیے آبِ حیات
پی کہ تیری زندگی مشتاقِ نَو آغاز ہے
ذکاءاللہ بسمل
No comments:
Post a Comment