Friday, 2 January 2026

کھلونوں کی دکاں پر درد کا شہکار لایا ہوں

 کھلونوں کی دُکاں پر درد کا شہکار لایا ہوں

یہ کچھ آنسو ہیں جن کو بیچنے بازار آیا ہوں

سناؤں تو یہ ڈر ہے آپ پر بارِ گراں ہو گا

وہ اک سادہ سا افسانہ جسے آنکھوں میں پایا ہوں

ذرا نظریں اٹھا کر مسکرا کر دیکھ تو لیجے

بڑی امید لے کر آپ کی محفل میں آیا ہوں

غم و درد و الم کے تیز طوفاں کی گودی میں

جو صدیوں سے رہا ہے میں اسی ہستی کا سایا ہوں

جسے دنیا نے بڑھ کر زندگی کا نام دے ڈالا

اسی بے ربط سی خواہش کا صادق میں ستایا ہوں


صادق نقوی

No comments:

Post a Comment