آرزو
شام کے سائے بہت گہرے ہوئے
نیند پلکوں کے دریچوں سے
مِری آنکھوں کو بوجھل کر گئی
خواب میں تم تھیں
تمہارے قرب کا احساس تھا
خواب جب ٹوٹا تو میں تھا
اور مِری تنہائی تھی
کاش تم خوابوں کی بستی سے نکل کر
مجھ کو اپنے قرب کی خوشبو کا تحفہ دو کبھی
رشید اختر
No comments:
Post a Comment