Thursday, 8 January 2026

شام کے سائے بہت گہرے ہوئے

 آرزو


شام کے سائے بہت گہرے ہوئے

نیند پلکوں کے دریچوں سے

مِری آنکھوں کو بوجھل کر گئی

خواب میں تم تھیں

تمہارے قرب کا احساس تھا

خواب جب ٹوٹا تو میں تھا

اور مِری تنہائی تھی

کاش تم خوابوں کی بستی سے نکل کر

مجھ کو اپنے قرب کی خوشبو کا تحفہ دو کبھی


رشید اختر

No comments:

Post a Comment