مِرے نیلے لبوں پر لب دھرو گے کیا
کوئی ایسا نہیں کرتا، کرو گے کیا؟
سنا ہے لوگ ڈر سے بھی لپٹتے ہیں
سنو بجلی کڑکتی ہے، ڈرو گے کیا
مجھے پیغام دو آنکھوں نے بھیجا ہے
مِرے پاگل! مجھے پاگل کرو گے کیا
مِرے نیلے لبوں پر لب دھرو گے کیا
کوئی ایسا نہیں کرتا، کرو گے کیا؟
سنا ہے لوگ ڈر سے بھی لپٹتے ہیں
سنو بجلی کڑکتی ہے، ڈرو گے کیا
مجھے پیغام دو آنکھوں نے بھیجا ہے
مِرے پاگل! مجھے پاگل کرو گے کیا
کیا غضب تُو نے اے بہار کیا
پتی پتی کو بے قرار کیا
اب تو سچ بولنے کی رسم نہیں
کس نے پھر اہتمامِ دار کیا
آتشِ درد میں کمی نہ ہوئی
لاکھ آنکھوں کو اشکبار کیا
وہ جو فردوس نظر ہے آئینہ خانہ ابھی
جلوہ گر جو وہ نہ ہوں ہو جائے ویرانہ ابھی
شمع کی لو میں سما کر خود سراپا نور ہو
دور رس اتنی نہیں پروازِ پروانہ ابھی
تیرا دیوانہ ہے اس کی رفعتوں کا ذکر کیا
گرد کو جس کی نہ پہنچا کوئی فرزانہ ابھی
تجھ بدن پر جو لال ساری ہے
عقل اس نے مِری بِساری ہے
بال دیکھے ہیں جب سوں میں تیرے
زلف سی دل کوں بے قراری ہے
سب کے سینے کو چھید ڈالا ہے
پلک تیری مگر کٹاری ہے
نسخۂ الفت میرا
گر کسی طور ہر اک الفتِ جاناں کا خیال
شعر میں ڈھل کے ثنائے رخِ جاناں نہ بنے
پھر تو یوں ہو کہ مِرے شعر و سخن کا دفتر
طول میں طولِ شبِ ہجر کا افسانہ بنے
ہے بہت تشنہ مگر نسخۂ الفت میرا
میں نفرتوں کے جہاں میں رہ کر جدا کروں گا تو کیا کروں گا
یہ ٹھیک کہتے ہو بے وفا ہوں وفا کروں گا تو کیا کروں گا
بس ایک تو ہی تو رہ گیا ہے جہاں سارے کو کھو چکا ہوں
تجھے بھی اپنی آنا میں آ کر خفا کروں گا، تو کیا کروں گا
ہزار سجدے تو کر چکا ہوں قضا تمہاری محبتوں میں
میں اب دِکھاوے کا کوئی سجدہ ادا کروں گا تو کیا کروں گا
قسمت کو منظور یہی تھا جیتی بازی ہار گئے
لڑتے رہے ہم طوفانوں سے اور وہ دریا پار گئے
اس شہرِ محرومِ وفا میں جینا بھی کیا جینا ہے؟
آنکھیں ویراں، سینہ خالی جب سے وہ سرکار گئے
جن کی یاد کو دل میں بسا کر ہم نے عمر گزاری تھی
اب تو ان کے نام پر زندہ رہنے کے آثار گئے