Sunday, 16 November 2014

اک ایسا قتل بھی مقتل کی داستان میں ہے

اک ایسا قتل بھی مقتل کی داستان میں ہے
جو ممتحن ہے وہی شخص امتحان میں ہے
کہاں وہ لوگ کہ شِکنیں نہیں جبینوں پر
کہاں وہ لوگ کہ اک تیر ہر کمان میں ہے
ہماری پیاس کو جھٹلانے والے یاد رہے
ابھی تو ریت کی تاثیر بھی زبان میں ہے
زیادہ دور نہیں ہے فرات خیموں سے
مگر یزید کا احسان درمیان میں ہے
جہاں شہید ہوں پسماندگاں شہیدوں کے
یہ رسم صرف تمہارے ہی خاندان میں ہے

اظہر فراغ

No comments:

Post a Comment