زندہ رہنے کے لیے یہ نہ ہو مرنا پڑ جائے
پیاس بڑھ جائے تو دریا میں اترنا پڑ جائے
کتنا مشکل ہے اگر کُوئے محبت سے مجھے
کارِ دنیا کے ارادے سے گزرنا پڑ جائے
بھیگے بالوں کو سنبھال اور نکل جنگل سے
اس سے پہلے کہ تِرے پاؤں یہ جھرنا پڑ جائے
کچھ ٹھہرتا نہیں اس ٹوٹے ہوئے برتن میں
دل دوبارہ نہ کہیں چاک پہ دھرنا پڑ جائے
کٹ کے جینا ہے تِری ذات سے ایسا جیسے
خود بخود ہوتے ہوئے کام کو کرنا پڑ جائے
پیاس بڑھ جائے تو دریا میں اترنا پڑ جائے
کتنا مشکل ہے اگر کُوئے محبت سے مجھے
کارِ دنیا کے ارادے سے گزرنا پڑ جائے
بھیگے بالوں کو سنبھال اور نکل جنگل سے
اس سے پہلے کہ تِرے پاؤں یہ جھرنا پڑ جائے
کچھ ٹھہرتا نہیں اس ٹوٹے ہوئے برتن میں
دل دوبارہ نہ کہیں چاک پہ دھرنا پڑ جائے
کٹ کے جینا ہے تِری ذات سے ایسا جیسے
خود بخود ہوتے ہوئے کام کو کرنا پڑ جائے
اظہر فراغ
No comments:
Post a Comment